کیا مجھے اداکار یا اداکارہ بننا چاہیئے؟

اداکاری بطور شعبہ صرف موویز یا فلم میں کام کرنے تک محدود نہیں ہے۔اداکار لا ئیو تھیٹر پروڈکشنز، تھیم پارک ، اشتہارات اورٹیلی ویژن شوز/پروگرامز میں اداکاری کرتے ہیں ۔جب اداکار اداکاری میں قدم رکھتے ہیں تو وہ اپنی مالی کفالت کے لیے مختلف طرح کے کام کرتا ہےیا کارکردگی دکھاتا ہے ، جیسا کہ فلموں یا ٹی وی میں ایکسٹرا اداکار کے طور پر کام کرنا۔
پاکستان میں بہت سے ایسے بلند حوصلہ اداکار ہیں جن کو پروڈکشن کمپنیاں باقاعدہ طور پہ مسلسل ہائر کررہی ہیں ۔ بعض اوقات ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بھی ضروری ہوتا ہے اور اداکاری میں قدم جمانے کا مقابلہ انتہا درجہ کا سخت مقابلہ ہے ۔اداکاری کا شعبہ جسمانی اور جذباتی دونوں طور پہ تھکا سکتا ہے ، بعض اوقات اداکا ر ایک ہی جگہ پہ کئی کئی گھنٹےبیزار کن ایڈیشنز اور ریہرسلز میں گزارتے ہیں۔ نئے اداکاروں کو اپنے کیرئیر کے آغا ز میں متواتر تردید کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

شعبہ کی شرائط۔

ڈگری لیول

ضروری نہیں ؛ بیچلر/گرایجوایشن کی ڈگری اس شعبہ میں مہارت حاصل کرنے کے لیے مدد گار ہے۔

ڈگری فیلڈ

اداکار بننے کے لیے کوئی باقاعدہ یا باضابطہ تعلیمی شرائط نہیں لیکن تھیٹر آرٹس ، ڈرامہ اور اداکاری میں بیچلر کی ڈگری کارساز/مفید ہے۔

تجربہ

زیادہ تجربہ تکنیکی مہارتیں سیکھنے میں مددگا ر ثابت ہوسکتا ہے۔ اس شعبہ میں تجربہ بہت اہمیت کا حامل ہے ، چونکہ تجربہ بڑے اور زیادہ معاوضہ کے حامل رولز کی طرف لے کے جائے گا

کلیدی صلاحیتیں

تخلیقی صلاحیت،گویائی، خواندگی اور مطالعہ کرنے کی صلاحیت۔ حفظ پذیری ، جسمانی قوتِ برداشت ، مستقل مزاجی ، نظم وضبط اور لگن ؛ زیادہ لوگوں سے بات چیت کرنے کی صلاحیت ۔

اداکا ر بننے کے اقدام

اگرچہ اداکار بننے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں ، لیکن اداکار بننے کے لیے آپ یہ پانچ بنیادی قدم لے سکتے ہیں ۔

پہلا قدم :کلاسز لینا ۔

اگرچہ اداکار یا اداکارہ بننے کے لیے کسی باضابطہ ٹریننگ کی بعینہ شرط نہیں ہے ، اس انسٹری میں زیادہ اداکار کالج ڈرامہ کورسز یا ایکٹنگ لنزرویٹری میں حصہ لیتے ہیں ۔
کالج ڈگری پروگرامز طالب علموں کو ایکٹنگ کے مختلف شعبات میں اان کی مہارتوں کو بڑھانے میں مدد کرتے ہیں ، جن میں برجستہ ایکٹنگ، مزاحیہ خاکے ،آف اسٹیج آواز / کمینٹری اور موسیقی تھیٹر اور پورٹ فولیوز بنا نا شامل ہے ۔ ڈرامہ یا تھیٹر کے کے انڈر گرایجوایٹ پروگرامز کے کورسز میں آوازاور بول چال ، اسٹیج کرافٹ ( اسٹیج پلے لکھنے کی صلاحیت ) ،ایکٹنگ تھیوری اور اسٹیج مینجمنٹ شامل ہیں ۔

دوسرا قدم : مہارتی تجربہ / پیشہ ور تجربہ حاصل کرنا ۔

اداکارکو ہر وہ تجربہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنی مہارتیں بہتر کرسکتے ہوں اور زیادہ پہچان بنا سکتے ہوں ۔ تجربے کی فہرست بنانے اور کیمرہ کے سامنے کایا اسٹیج تجربہ حاصل کرنے کے لیے ، کالج پروڈکشنز میں حصہ لینا ایک زبردست طریقہ /راستہ ہے۔ ان کارکردگیوں کی ریکارڈنگز کی کاپیاں سنبھال کر رکھنا بہت ضروری ہے تا کہ کسی رول کا ایڈیشن دیتے ہوئے قیادی آجروں کو دکھائی جا سکیں ۔
بہت سے اداکار عوامی پروڈکشنز تھیٹر سے بھی آغاز کرتے ہیں ۔ باقی مقامی اجتماعات سے منعقد کردہ “اوپن مائک نائٹس” میں کھلم کھلا پرفارم کرنے کا انتخاب کرتے ہیں ۔ بہت سی دوسری عوامی جگہوں جیسا کہ نائٹ کلب ، ڈنر تھیٹر ، تھیم پارک پہ پرفارم کرنا بھی نو آموزوں کو حقیقی دنیا کا تجربہ حاصل کرنے اور حاضرین کا سامنا کرنے میں مدد کرتا ہے ۔

تیسرا قدم : اضافی مہارتیں حاصل کرنا ۔

کیونکہ لا متناہی / لا محدود رولز میسر ہیں ، اداکا ر جتنا زیادہ اداکاری کا علم رکھتا ہو گا، اتنے ہی زیادہ اور مختلف قسم کے ایڈیشن دینے کی قابلیت رکھتا ہو گا ۔مثال کے طور پہ غیر ملکی لہجے یا امپریشنز سیکھنا ایک مخصوص مارکیٹ جس میں پہلے یہ سب ممکن نہیں تھا مدد کرے گا ۔ کچھ رولز ایکٹر کو ڈانسر ، سنگر دونوں طرح دیکھنا چاہتے ہیں ۔ کلاسز لینا اور مختلف مہارتوں پہ عبور حاصل کرنا اداکاروں کی مختلف قسم کے کردار نبھانے میں مددگار ہے ۔
بہت سے اداکار ایک یکٹنگ کوچ کی خدمت حاصل کرتے ہیں جو کہ ان سے زیادہ تجربہ کار ہوتا ہے ۔ یہ کوچ انہیں رول کے لیے تیار کرتا ہے اور انہیں اس شعبے کی خاصیت سمجھانے کے ساتھ ساتھ آڈیشن بھی تلاش کرکے دیتاہے ۔

چوتھا قدم : ایجنٹ تلاش کرنا ۔

یہ ضروری نہیں ہے لیکن ایجنٹ کا اداکار کے ساتھ ہونا اس کے کاموں کو آسا ن کر دیتا ہے۔ زیادہ تر اداکاری سے منسلک کاروباری کام جیسا کہ ای-میل کرنا ، آڈیشن کی تقرری کا شیڈول بنانا، اور کنٹریکٹس کے معاملا ت طے کرنا ۔ اگر ان انتظامی کاموں کی تکمیل کے لیے ایجنٹ ہوگا تو اداکارکو اپنی مہارتوں کی پریکٹس کے لیے زیادہ وقت مل جائے گا ۔زیادہ ایجنٹس کے کاسٹنگ ڈائریکٹرز کے ساتھ روابط ہوتے ہیں ، جس کا مطلب ہے کہ وہ آسانی سے باقاعدہ ایکٹنگ رولز کے ساتھ کلائنٹس/ گاہکوں کے ساتھ رابطہ کر سکتا ہے ۔
مثال کے طور پہ ایک ایجنٹ جتنے کلائنٹس کے ساتھ کام کرتا ہے اور جتنا ذاتی وقت وہ ایک ایجنٹ کے ساتھ گزارتا ہے ، جاننا ضروری ہے ۔

پانچواں قدم :شعبہ/فیلڈ میں ترقی کرنا ۔

بی –ایل – ایس کے مطابق اداکاری میں ترقی سے مراد اداکا ر کا شہرت حاصل کرنا ہے ۔ اداکاروں کو زیادہ معاوضہ کے حامل اور ممتاز رولز حاصل کرنے کے لیے دیگر اداکاروں پرڈیوسرز، ڈائریکٹرز ، اور ذاتی مارکیٹنگ پہ زور دینا چاہیئے ۔
سوشل میڈیا ویب سائٹس اور اپلیکیشنز اداکاروں کا شہرت حاصل کرنے کا بہت زبردست آلہ ہیں ۔ اداکاروں کی ایک اپنی ذاتی ویب سائٹ ہونی چاہیئے تاکہ وہ اس پہ اپنی ریسیوم ، ریل ( نوٹ ایبل کارکردگیوں کی ویڈیو کامپائلیشن )، بائیو گرافی اور ہیڈ شوٹ اپ لوڈ کر سکیں۔

Register as an actor click here